ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سی اے اےتحریک کے دوران املاک کی تباہی کا معاملہ ؛ یوپی میں قانون طاق پر رکھ کر500لوگوں کو قرقی کا نوٹس

سی اے اےتحریک کے دوران املاک کی تباہی کا معاملہ ؛ یوپی میں قانون طاق پر رکھ کر500لوگوں کو قرقی کا نوٹس

Sun, 23 Jan 2022 11:21:48    S.O. News Service

لکھنؤ، 23؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی)سی اے اے مخالف احتجاج کو اب دو سال ہونے جا رہے ہیں - اترپردیش میں دسمبر2019میں مظاہرے کے دوران تشدد میں تقریباً 22لوگوں کی جانیں گئیں - دو سال بعد اب اس کا ذکر صرف انتخابی تقاریر میں ہوتا ہے- چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے ملزموں کی جائیدادیں ضبط کی جائیں - تاہم انتخابی مہم کے دوران سی اے اے کا کبھی ذکر نہیں کیا گیا-دی انڈین ایکسپریس کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ کس طرح ہائی کورٹ کے حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے اترپردیش میں 500لوگوں کو وصولی کے نوٹس بھیجے گئے- نوٹس میں جائیداد کی قیمت، الزام اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا ہے-10/اضلاع کو بھیجے گئے500نوٹسوں میں کہا گیا ہے کہ جائیداد کی ضبطی اور تقریباً3.35کروڑ روپے کے جرمانے کی بات کئی گئی ہے- لکھنؤ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ویبھو مشرا کی جانب سے 46 لوگوں کو ریکوری کا نوٹس بھیجا گیا تھا- ان سبھی پر حضرت گنج میں تشدد اور تخریب کاری کا الزام ہے- اس معاملے میں دو ایف آئی آر درج کی گئیں اور 64.37لاکھ کا نقصان بتایا گیا- اے ڈی ایم نے ان سبھی کو 64.37 لاکھ کی وصولی کا نوٹس دیا ہے-اے ڈی ایم کے سامنے دیوانی کارروائی سے پہلے، ان 46 لوگوں میں سے صرف28کا نام ایف آئی آر میں تھا- یہ سب ضمانت پر باہر ہیں - ان میں سے کسی بھی معاملے میں پولیس کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی- تمام آرڈرز میں ایک ہی لائن لکھی ہے، مظاہرین نے تین او بی وین کو بھی آگ لگا دی تھی، اس لیے تصویر اور ویڈیو ثبوت دستیاب نہیں ہیں - یہاں تک کہ جو تصاویر لی گئی ہیں وہ بھی واضح نہیں ہیں -


Share: